GILGIT – The district administration in Hunza has reportedly taken action after a video allegedly showing a dance party surfaced on social media and triggered a strong public reaction.
Deputy Commissioner Hunza Fayyaz Ahmed took notice of the matter after the video circulated widely online.
Following the deputy commissioner’s directions, the administration reportedly sealed the hotel in Aliabad as part of the action taken over the incident.
Fayyaz Ahmed said the administration would not allow activities that it considers immoral or that promote obscenity.
یہ ہمارے ملک کے مشہور اداکار اور شوبز شخصیات ہیں، جنہیں عوام اپنا ہیرو مانتی ہے اور سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں، لیکن یہ آج تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ اصل میں کس کلچر کو پرموٹ کر رہے ہیں۔ پہلے تو یہ پاکستان سے باہر جا کر اس قسم کی ڈریسنگ اور نائٹ لائف کا مظاہرہ کرتے تھے، مگر اب گلگت بلتستان جیسے باوقار، روایتی اور باحیا خطے میں جا کر اس بے ہنگم مغربی کلچر کی نمائش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی اپنی ایک شاندار تہذیب، امیر تاریخ اور اسلامی اقدار ہیں، لیکن افسوس کہ ہمارے سلیبریٹیز کو اندھی مغربی تقلید کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ بطور انفلوئنسر ان کا کام اپنی قومی اور مقامی ثقافت کو فخر سے دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا، نہ کہ بیرونی فیشن اور پارٹی کلچر کو “روشن خیالی” کا نام دے کر ہماری نوجوان نسل میں پھیلا کر اپنی شناخت کو ہی مسخ کرنا۔ تفریح کا مقصد اپنی اقدار اور اپنے ملک کے آداب کو بھول جانا ہرگز نہیں ہوتا۔
ہم لوگ اکثر سوشل میڈیا پر صرف ٹک ٹاکرز کو ہی نشانہ بناتے رہتے ہیں اور ان کے مواد پر اعتراض اٹھاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری شوبز شخصیات بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ دونوں کے درمیان فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کو “سستا کنٹینٹ” کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کو “گلیمر” اور “روشن خیالی” کا خوبصورت غلاف پہنا کر سراہا جاتا ہے۔ حقیقت میں اخلاقی اور تہذیبی اقدار کو پسِ پشت ڈالنے میں یہ دونوں ایک ہی راستے کے مسافر ہیں۔ ٹک ٹاکر اگر فالوورز اور لائکس کے لیے حدیں پار کرتے ہیں تو یہ نام نہاد سلیبریٹیز فیشن اور ماڈرنزم کے نام پر اپنی ہی قوم اور خطے کی ثقافت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب تک ہم اس دوہرے معیار کو ختم نہیں کریں گے اور طبقے کی بنیاد پر تنقید کرنے کے بجائے اصول اور تہذیب کی بات نہیں کریں گے، تب تک ہماری اخلاقی پاسداری کا دعویٰ بے معنی ہی رہے گا۔#CulturalRespect #ResponsibleTourism
— Nukta e Nazar – نقطہ نظر (@fizimughal) October 6, 2026
The action came after the video drew attention on social media and prompted public criticism, leading the district administration to intervene.
The authenticity of the videos and allegations of use of drugs are yet to be verified independently.
